#mmwurdu
MMW Urdu
Urdu documentaries
MMW Urdu documentaries
Iran in Urdu

Disclaimer
This is a Documentary channel and the information provided by this is for general informational purpose only. All information is provided in good faith.

12 Comments

  1. اس وقت مسلم امہ ایسے انتشار کا شکار ہے اور مسلمان عوام ایسے بے بس ہو چکے ہیں کہ اتنے بڑے واقعے پر چند ایک بیانات اور مطالبات کے علاوہ کوئی قابل ذکر رد عمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف تمام بڑی بڑی غیر مسلم طاقتیں اسرائیل کے ساتھ ہیں اور اس کو اتنا مضبوط کر چکی ہیں کہ نہتے فلسطینی مسلمان تو کیا، کوئی عرب یا غیر عرب ملک اس کے خلاف کوئی مضبوط قدم نہیں اٹھا سکتا، سب مذاکرات پر زور دیتے ہیں اور ان کی کامیابی کی تمنا کرتے ہیں لیکن آج تک اس سے قبل دنیا میں کسی حقدار کو اس کا حق بات چیت سے نہیں ملا، یہود جیسی مکار قوم مسلمانوں کو اگر ان کا حق زبانی کلامی کوشش سے دے دے تو اسرائیل کے قیام کی ضرورت ہی کی تھی ؟ فلسطینی مسلمانوں نے تو ہمت نہیں ہاری ۔ وہ جدید ترین اسلحے کا مقابلہ غلیل سے کہ رہے ہیں اور ایک ہتھیار ان کے پاس ایسا ہے جو اس وقت کام دیتا ہے جب سارے ہتھیار کام ہو جائیں یعنی فدائی حملہ سواس وقت فدائی حملے ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں، مسجد اقصی اگر وہ واپس نہیں لے سکتے تو اس کے لیے جان تو دے سکتے ہیں، سو وہ دے رہے یں لیکن فلسطین سے باہر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سوچنے کا مقام یہ ہے کہ صورتحال یہی رہی تو انجام گلستاں کیا ہوگا ؟ فلسطینی مسلمانوں کو اس مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا گیا تو دنیا

    بھر میں جہاں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کے خلاف دشمنان اسلام تباہ کن یلغار کے لیے پر تولے بیٹھے ہیں، ان کے 197 کی کیا ضمانت رہ جائے گی

  2. اب یہ طالبان کا امتحان اور آزمائش کا وقت ھے۔وہ مسلمان ھو کر مسلمانوں پر خود کش حملے کرتے ھیں۔انہیں یہ مظلوم فلسطینی نظر نہیں آتے انہیں مدد کی اشد ضرورت ھے۔سارے طالبان فلسطین پنہچیں اور حماس کا ساتھ دیں۔ان کے بازو بنیں۔اور خود کشوں کو اسرائیل کا رستہ دکھائیں تو ساری دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی آنکھ کا تارہ بن جائیں گے طالبان۔ ایک شیعہ کے جذبات۔

  3. 56 اسلامی ممالک میں صرف ایک واحد ملک ایران ھے جو مظلوم فلسطینیوں کا کھلم کھلا حامی و طرف دار ھے ۔جس کی وجہ سے امریکہ یورپ اسرائیل ایران کے دشمن ھیں۔اور باقی سب صرف دعا کر رھے ھیں۔

Leave A Reply